نئی دہلی،یکم اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) آپریشن حریت کا اثر آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا ہے۔این آئی اے مسلسل دہشت گردی فنڈنگ پر تحقیقات کر رہی ہے، جس سے ایک کے بعد ایک کئی انکشافات ہو رہے ہیں،اب پتہ لگا ہے کہ حریت رہنما پڑھائی کے نام پر بھی پاکستان سے لین دین کرتے تھے۔حریت رہنما پاکستان میں داخلہ کروانے کے قریب 25-30لاکھ روپے وصول کرتے تھے۔اس کام میں پاکستان ہائی کمیشن بھی شامل تھا۔علیحدگی پسند لیڈر اس پیسوں کا استعمال دہشت گردوں کی مدد کرنے میں کرتے تھے۔بتا دیں کہ حریت کے علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی اور ان کے خاندان کی مصیبت بڑھتی جا رہی ہے۔دہشت گردی فنڈنگ پر اسٹنگ آپریشن کے بعد این آئی اے تفتیش میں گیلانی ہی نہیں، اس کے بیٹے داماد بھی بری طرح گھر گئے ہیں۔گیلانی کے بیٹے کو دہلی لایا جانا تھا لیکن خراب طبیعت کا حوالہ دے کر وہ نہیں آیا۔اس کے پہلے این آئی اے نے چھاپہ ماری میں سید علی شاہ گیلانی کا دستخط کیا ہوا حریت کا ایک کیلنڈر برآمد کیا تھا۔یہ دہشت گرد کیلنڈر گیلانی کے داماد الطاف کے گھر سے برآمد کیا تھا۔اس کیلنڈر میں تاریخ کی درجہ بندی کہ کس تاریخ میں کب کب کہاں کہاں ہنگامہ کرنا ہے، کہاں فسادات بھڑکانا ہے، کہاں ہنگامہ کرانا ہے، تمام درج تھا لیکن حریت پر وزیر اعلی محبوبہ مفتی کا رخ نرم ہی ہے۔حریت کا اصلی چہرہ سامنے آنے کے بعد یہ طے کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کے ان آقاؤں کی دکان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو۔